سکندر و قلندر

سکندر ، وہ شخص ہوتا ہے تو دنیا کو تسخیر کرنا چاہتا ہے ، جو دنیا کو فتح کرنا چاہتا ہے .. جس کے پاس خواہش ہو.. جو سراپائے آزمائش ہو!

سکندر دولتِ دنیا لوٹنا چاہتا ہے ..سکندر اپنے آپ میں مزید حاصل کی تمنا کا نام ہے ..

قلندر، وہ ہوتا ہے جو کائنات کو مسخر کیے ہوتا ہے، جو ہمہ وقت ایک فاتح سے بھی بڑھ کر ہوتا ہے ۔ قلندر کے لیے کائنات مثلِ غبارِ راہ ہے

اُس میں مزید کی خواہش جنم نہیں لیتی، وہ دولتِ دنیا لُٹا دینا چاہتا ہے ۔ قلندر اپنے آپ میں ایک واصل ہوتا ہے

قلندر کے در پر سکندر سوالی ہوتا ہے ، وہ حصول ِ دنیا میں تا وقتِ قضا ایڑھیاں رگڑتا ہے، سسکتا ہے اور خواہش کے کشکول میں حکومت کی بھیک مانگتا ہے ..قلندر دونوں ہاتھوں سے سب لُٹا ئے بے نیاز ہوتا ہے ، وہ دمِ رقص ہوتا ہے ..اسکے چہرے کی مسکان اسکی پروان کا پتا دیتی ہے ..قلندر قبولیت کا نام ہے، جبکہ سکندر مقبولیت کا!

قلندر درِ عطا پہ جڑا مہرِوفا ہے …وہ سراپائے حق نما ہے ..قلندر ،حیدریم مستم ہے اور دیکھو جبینِ سکندر پہ خاک

پُر فشاں ہے ، دل پریشاں ہے بے بس زباں ہے …..کہاں ہے سکندر ، سکندر کہاں ہے ؟

قلندر باقی ہے سو یہاں ہے …..

(۹ اپریل ۲۰۰۹)

Advertisements

One thought on “سکندر و قلندر

Leave a Reply

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

You are commenting using your WordPress.com account. Log Out /  Change )

Google+ photo

You are commenting using your Google+ account. Log Out /  Change )

Twitter picture

You are commenting using your Twitter account. Log Out /  Change )

Facebook photo

You are commenting using your Facebook account. Log Out /  Change )

Connecting to %s